بین المذاہب ہم آہنگی: کھوکھلے نعرے اور اسلام کی اصل تعلیمات کا تقابلی جائزہ
حصہ اول: بین المذاہب ہم آہنگی کا جدید تصور - تعریف، مقاصد اور تنقید
باب 1: عالمی امن کے ایک آلے کے طور پر مکالمہ
تعریف اور ارتقاء
بین المذاہب ہم آہنگی کی جدید تحریک، جس کی جڑیں انیسویں صدی کے اواخر تک جاتی ہیں، آج عالمی سطح پر امن اور بقائے باہمی کے ایک اہم ستون کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس تحریک کا ایک ابتدائی سنگ میل 1893 میں قائم ہونے والی "پارلیمنٹ آف ورلڈ ریلیجنز" تھی ۔ تاہم، اس تصور نے اکیسویں صدی میں ایک نئی رفتار پکڑی جب 2010 میں اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر سال فروری کے پہلے ہفتے کو "عالمی بین المذاہب ہم آہنگی ہفتہ" کے طور پر منانے کی تجویز پیش کی، جسے فوری طور پر منظور کر لیا گیا ۔
اس تحریک کی بنیادی تعریف مختلف مذہبی روایات اور روحانی عقائد کے حامل افراد اور اداروں کے درمیان ایک مثبت، تعمیری اور باہمی تعاون پر مبنی تعامل ہے ۔ اس کا مقصد باہمی افہام و تفہیم، رواداری اور تعاون کو فروغ دینا ہے ۔ اس تحریک کے حامیوں کا ماننا ہے کہ مختلف عقائد کے درمیان مکالمہ امن کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ دنیا کی 80 فیصد سے زائد آبادی کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے ۔
بنیادی مقاصد
بین المذاہب ہم آہنگی کے جدید تصور کے مقاصد واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں سرفہرست امن اور عدم تشدد کی ثقافت کو فروغ دینا ہے ۔ اس کے علاوہ، اس کا مقصد مختلف مذاہب کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی تصورات اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہے ۔ یہ تحریک مشترکہ چیلنجوں، جیسے وبائی امراض، قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں، سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہریکین سینڈی (2015) اور ایبولا بحران (2016) جیسے واقعات میں بین المذاہب تعاون نے امداد، شفا اور مفاہمت میں اہم کردار ادا کیا ۔
اس تحریک کا مرکزی پیغام "خدا سے محبت اور پڑوسی سے محبت، یا نیکی سے محبت اور پڑوسی سے محبت" کے مشترکہ اصول پر مبنی ہے ۔ اس کا مقصد مذہبی اداروں کے وسیع انفراسٹرکچر کو، جو تعلیم کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈھانچہ ہے، عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کرنا ہے ۔ اس طرح، یہ تحریک ایک "امن کی ثقافت" (culture of peace) کی تعمیر کی کوشش کرتی ہے جو محض تنازعات کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ ایک ایسا ماحول ہے جہاں ہر فرد کو ترقی کرنے کا موقع ملتا ہے ۔
عالمی اداروں کا کردار
اقوام متحدہ (UN) اور بین الپارلیمانی یونین (IPU) جیسے عالمی ادارے بین المذاہب مکالمے کو سفارت کاری اور امن سازی کے ایک تسلیم شدہ آلے کے طور پر فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ یہ ادارے حکومتوں، سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں تاکہ باہمی افہام و تفہیم کو بڑھایا جا سکے ۔ ان اداروں کی کوششوں سے بین المذاہب مکالمہ ایک عالمی ایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے، جس کا مقصد مختلف تہذیبوں کے درمیان پل تعمیر کرنا اور ان بیانیوں کو چیلنج کرنا ہے جو تقسیم اور جبر کو ہوا دیتے ہیں ۔
باب 2: "کھوکھلے نعروں" کا تنقیدی جائزہ
سطحیت اور مذہبی اختلافات سے چشم پوشی
بین المذاہب ہم آہنگی کی جدید تحریک پر ایک بنیادی تنقید یہ ہے کہ یہ اکثر سطحی نوعیت کی ہوتی ہے اور گہرے مذہبی و نظریاتی اختلافات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ "مشترکہ اقدار" اور "ہم آہنگی" پر حد سے زیادہ زور دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان حقیقی اور بنیادی عقائد پر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے جو مذاہب کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ "ہم آہنگی کافی نہیں ہے" اور محض "رواداری" کا مقصد بہت محدود ہے ۔ یہ تحریک ایک ایسی فضا پیدا کرتی ہے جہاں گہرے مذہبی اصولوں پر بحث کو تنازع سے بچنے کے لیے غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل ایک ایسی کوشش معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد تمام مذاہب کو ملا کر ایک مشترکہ عالمی اخلاقیات (Global Ethic) تشکیل دینا ہے، جیسا کہ ہنس کنگ نے تجویز کیا تھا ۔ یہ تصور اسلام جیسے توحیدی اور exclusivist مذاہب کے لیے ناقابل قبول ہے، جو اپنے عقائد کو حتمی اور مطلق سچائی سمجھتے ہیں۔ اس تحریک کا ڈھانچہ ہی مغربی فلسفہ تکثیریت (Pluralism) پر مبنی ہے، جو یہ मानता ہے کہ متعدد مذہبی راستے بیک وقت درست ہو سکتے ہیں ۔ یہ نظریہ اسلام کے بنیادی تصورِ دعوت سے متصادم ہے، جو تمام انسانیت کو ایک حتمی سچائی کی طرف بلانے پر زور دیتا ہے۔ لہٰذا، اس مکالمے میں شرکت کرنا پہلے سے ہی ایک ایسے فلسفیانہ فریم ورک کو قبول کرنے کے مترادف ہے جو اسلامی عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سیاسی آلہ کار
ایک اور سنگین تنقید یہ ہے کہ بین المذاہب مکالمے کو اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ریاستیں اسے اپنی "اعتدال پسند شبیہ" کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور بنیاد پرستی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ بعض اوقات، سیاسی اداکار "تقسیم کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ" بناتے ہوئے مکالمے کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ یہ تحریک کسی "بیرونی ایجنڈے" کا حصہ ہو سکتی ہے ۔ یہ سیاسی مداخلت حقیقی اور مخلصانہ مکالمے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جیسا کہ متعدد تحقیقی مطالعات میں تسلیم کیا گیا ہے ۔
اس تحریک کی ابتدا اور فروغ میں اقوام متحدہ جیسے سیکولر اداروں کا مرکزی کردار اور اس کے مقاصد، جیسے "پائیدار ترقی" اور "وبائی امراض سے بحالی" ، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بنیادی طور پر ایک سیکولر اور سیاسی منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ مذہبی زبان (محبت، ہمدردی، انصاف) تو استعمال کرتا ہے، لیکن اسے اس کے اصل مذہبی اور مابعد الطبیعاتی سیاق و سباق سے الگ کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، اسلام میں انصاف کا تصور شریعت سے متعین ہوتا ہے، نہ کہ صرف انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے سے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے نعرے بہت سے مذہبی پیروکاروں کو "کھوکھلے" محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں وہ روحانی اور نظریاتی گہرائی نہیں ہوتی جو انہیں بامعنی بنا سکے۔
مفاہمت یا عقیدے کا سودا؟
بہت سے مذہبی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ بین المذاہب مکالمے میں شرکت کے لیے اپنے بنیادی عقائد پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ۔ "کشادہ ذہنی" اور "دوسروں کے عقائد کا احترام" جیسے اصولوں کا مطلب اگر یہ لیا جائے کہ اپنے عقیدے کی حقانیت پر اصرار نہ کیا جائے، تو یہ اسلامی نقطہ نظر سے ناقابل قبول ہے ۔ بعض قدامت پسند گروہوں کی طرف سے اس مکالمے کی شدید مخالفت کی جاتی ہے، یہاں تک کہ اسے "کفر" تک قرار دیا گیا ہے ۔
اس کی واضح مثال انڈونیشیا کی علماء کونسل (MUI) کے فتاویٰ ہیں، جنہوں نے دوسرے مذاہب کے سلام کے کلمات ادا کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ ان فتاویٰ کی بنیاد یہ دلیل ہے کہ اس طرح کے اعمال عقیدے کی پاکیزگی (hifz al-din) کو مجروح کرتے ہیں۔ یہاں سماجی ہم آہنگی کا تصور عقیدے کے تحفظ کے اصول سے ٹکرا جاتا ہے ۔ یہ کشمکش اس بنیادی مسئلے کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید بین المذاہب مکالمے کا فریم ورک اسلامی عقیدے کی حدود و قیود سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
حصہ دوم: اسلام میں بین المذاہب تعلقات کی اساس اور حدود
باب 3: قرآن و سنت میں غیر مسلموں سے تعلقات کے بنیادی اصول
انسانی تکریم کا عالمگیر تصور
اسلامی تعلیمات کی بنیاد انسانیت کے عالمگیر احترام پر رکھی گئی ہے۔ قرآن مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کو عزت و تکریم بخشی ہے (سورۃ الاسراء، 17:70) ۔ یہ تکریم کسی نسل، رنگ یا مذہب سے مشروط نہیں ہے۔ اسی طرح، اسلام میں انسانی جان کے تقدس پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، کسی ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے (سورۃ المائدہ، 5:32) ۔ یہ اصول تمام غیر مسلموں پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جس طرح مسلمانوں پر۔
عدل و احسان کا قرآنی حکم
غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد قرآن مجید کی سورۃ الممتحنہ کی آیت 8 میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان غیر مسلموں کے ساتھ "بر" (نیکی، حسن سلوک) اور "قسط" (عدل و انصاف) کرنے سے منع نہیں کرتا جو مسلمانوں کے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے اور انہیں ان کے گھروں سے نہیں نکالتے ۔ یہ آیت غیر مسلموں کے ساتھ مثبت اور منصفانہ تعلقات کی قرآنی بنیاد فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویہ نہ رکھتے ہوں۔
سیرتِ نبویؐ سے عملی مثالیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ غیر مسلموں کے ساتھ حسنِ سلوک اور رواداری کی بہترین مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ آپؐ ایک بیمار یہودی لڑکے کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ آپؐ نے اپنی مشرک ساس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے ۔ آپؐ نے دشمن قبائل کے لیے بددعا کرنے کے بجائے ان کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی ۔ یہاں تک کہ جب عبداللہ بن اُبی جیسے منافق نے آپؐ کی مجلس میں گستاخی کی، تب بھی آپؐ نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اسے اسلام کی دعوت دی ۔ "میثاقِ مدینہ" اور "صلح حدیبیہ" بین المذاہب تعلقات اور معاہدات کی آئینی اور سیاسی مثالیں ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اسلام ایک کثیر المذاہب معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے ۔
باب 4: اسلامی فقہ میں غیر مسلموں کے حقوق و فرائض
اسلامی قانون، یعنی فقہ، ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق و فرائض کی تفصیلات واضح کرتا ہے۔ یہ تعلقات ایک کثیر سطحی نظام پر مبنی ہیں جو عالمگیر اخلاقیات سے شروع ہو کر مخصوص قانونی حقوق اور پھر نظریاتی حدود تک جاتا ہے۔
اہلِ کتاب کا خصوصی مقام
اسلام "اہلِ کتاب" (یہودیوں اور عیسائیوں) اور دیگر غیر مسلموں کے درمیان فرق کرتا ہے ۔ قرآن ان کے مشترکہ ابراہیمی ورثے اور ان پر نازل ہونے والی آسمانی کتابوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ اسی خصوصی حیثیت کی بنا پر اسلامی شریعت میں مسلمان مردوں کو اہلِ کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے اور ان کے (شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے) جانوروں کا گوشت کھانے کی اجازت دی گئی ہے ۔
ذمیوں کے حقوق
اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو "ذمی" کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے "عہد و پیمان والا" یا "جس کی حفاظت کی ذمہ داری لی گئی ہو" ۔ اسلامی قانون کے تحت، ذمیوں کو جان، مال اور عزت کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی جاتی ہے، اور ان کے یہ حقوق مسلمانوں کے حقوق کی طرح مقدس سمجھے جاتے ہیں ۔ حدیثِ نبویؐ ہے: "جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اس کا حق کم کیا، تو میں قیامت کے دن اس کا مدعی ہوں گا" ۔ انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے، وہ اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کر سکتے ہیں اور ان کے ذاتی معاملات (شادی، طلاق، وراثت) ان کے اپنے مذہبی قوانین کے مطابق طے کیے جاتے ہیں ۔
جزیہ کا تصور اور اس کی حقیقت
جزیہ کے تصور کو اکثر غلط سمجھا اور پیش کیا جاتا ہے۔ کلاسیکی فقہاء کی تشریحات کے مطابق، جزیہ کوئی تذلیل آمیز ٹیکس نہیں بلکہ فوجی خدمات کے بدلے میں وصول کی جانے والی ایک رقم تھی، کیونکہ فوجی خدمت صرف مسلمان مردوں پر فرض تھی ۔ یہ ریاست کی طرف سے فراہم کردہ تحفظ اور دیگر شہری سہولیات کا معاوضہ بھی تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ عورتیں، بچے، غریب، معذور، بوڑھے اور مذہبی پیشوا (راہب وغیرہ) جزیہ سے مستثنیٰ تھے ۔
باب 5: تعلقات کی حدود: عقیدۂ ولاء و براء اور تشبہ بالکفار
اسلام جہاں غیر مسلموں کے ساتھ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے، وہیں تعلقات کی کچھ نظریاتی اور عملی حدود بھی مقرر کرتا ہے جن کا مقصد مسلمان کی شناخت اور عقیدے کا تحفظ ہے۔
قرآن میں "اولیاء" کا مفہوم
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کو کفار کو "اولیاء" بنانے سے منع کیا گیا ہے (مثلاً سورۃ آل عمران: 28، المائدہ: 51) ۔ لفظ "اولیاء" کا ترجمہ محض "دوست" کرنا اس کے مفہوم کو محدود کر دیتا ہے۔ اس سے مراد ایسے گہرے، قلبی اور رازدارانہ تعلقات ہیں جن میں ایک مسلمان کی وفاداری اللہ، اس کے رسولؐ اور مومنوں کی جماعت کے بجائے کسی اور سے وابستہ ہو جائے۔ یہ عقیدہ "الولاء و البراء" (دوستی اور دشمنی اللہ کے لیے) کا بنیادی جزو ہے۔ اس کا مطلب عام سماجی، معاشی یا انسانی ہمدردی کے تعلقات سے ممانعت نہیں، بلکہ نظریاتی اور سیاسی وفاداری کی حدود کا تعین ہے۔
مذہبی تہواروں میں شرکت کا مسئلہ
فقہاء نے "تشبہ بالکفار" (کفار کی مشابہت اختیار کرنا) سے منع کیا ہے، خاص طور پر ان کے مذہبی تہواروں اور رسومات میں شرکت سے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تہواروں کی بنیاد شرک یا کفر پر مبنی عقائد پر ہوتی ہے، اور ان میں شرکت کرنا ان عقائد کی بالواسطہ تائید کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہ ممانعت سماجی تعلقات کے بجائے عقیدے کے تحفظ پر مبنی ہے۔
تعاون کی جائز و ناجائز صورتیں
تعاون کا اسلامی اصول سورۃ المائدہ کی آیت 2 میں بیان ہوا ہے: "نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو" ۔ اس اصول کے تحت، غیر مسلموں کے ساتھ مشترکہ سماجی بہبود کے منصوبوں، جیسے غربت کے خاتمے، ماحولیاتی تحفظ، یا انسانی حقوق کے لیے کام کرنے، میں تعاون کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ تاہم، ایسے کسی بھی کام میں تعاون کرنا حرام ہے جو اسلامی شریعت کی رو سے گناہ ہو، جیسے سودی کاروبار، شراب کی تجارت، یا ایسے امور جو شرکیہ عقائد کو فروغ دیں۔
اس تقابلی جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید بین المذاہب ہم آہنگی کا تصور اور اسلام کا پیش کردہ فریم ورک اپنی بنیاد، مقاصد اور حدود میں یکسر مختلف ہیں۔ جدید تصور کی بنیاد سیکولر انسانیت پسندی پر ہے جس کا ہدف سماجی ہم آہنگی ہے، جبکہ اسلامی تصور کی بنیاد وحی الٰہی پر ہے جس کا مقصد عدل کا قیام اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔
خصوصیت (Feature)
جدید تصور (Modern Concept)
اسلامی تصور (Islamic Concept)
بنیادی مقصد (Primary Goal)
سماجی ہم آہنگی اور عالمی امن
اللہ کی رضا کا حصول اور عدل و انصاف کا قیام
بنیاد (Basis)
سیکولر انسانیت پسندی، اقوام متحدہ کے چارٹر
قرآن و سنت
سچائی کا تصور (Concept of Truth)
تکثیری (Pluralistic) - تمام راستے سچے ہو سکتے ہیں
توحیدی (Monotheistic) - اسلام ہی حتمی سچائی ہے
مکالمے کا ہدف (Goal of Dialogue)
باہمی افہام و تفہیم
دعوت الی اللہ اور اتمام حجت
تعاون کی حدود (Limits of Cooperation)
مشترکہ بھلائی کے لیے غیر محدود
گناہ اور عدوان (شرک، حرام امور) میں تعاون سے ممانعت
Export to Sheets
یہ فرق اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ جدید تحریک کے نعرے کیوں "کھوکھلے" محسوس ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریک تعلقات کی بنیاد ایک قانونی اور ریاستی معاہدے (covenant) کے بجائے غیر رسمی سماجی مکالمے پر رکھتی ہے۔ اسلام میں تعلقات کی بنیاد واضح معاہدات (جیسے ذمی کا معاہدہ) پر ہوتی ہے، جو حقوق و فرائض کا تعین کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جدید ماڈل ایک غیر رسمی "ہم آہنگی" پر زور دیتا ہے جو اکثر بنیادی نظریاتی اختلافات کو نظر انداز کر دیتا ہے، جس سے یہ فریم ورک اسلامی نقطہ نظر سے نامکمل اور ناقابل عمل نظر آتا ہے۔
حصہ سوم: معاصر مسلم علماء کا اختلافِ رائے اور مستقبل کی راہیں
بین المذاہب تعلقات کے حوالے سے معاصر مسلم علماء کے درمیان واضح اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ ان کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے انہیں مختلف فکری رجحانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
عالم (Scholar)
بنیادی اسلوب (Primary Approach)
مکالمے پر مؤقف (Stance on Dialogue)
کلیدی تصورات (Key Concepts)
جاوید احمد غامدی
تعبیر نو/جدیدیت پسند
شہری مساوات اور بقائے باہمی کے لیے ضروری
اتمام حجت، قومی ریاست، شہری حقوق
ڈاکٹر ذاکر نائیک
مناظرانہ/تقابلی
اسلام کی برتری ثابت کرنے کا پلیٹ فارم
تقابل ادیان، دعوت، اسلاموفوبیا کا رد
ڈاکٹر طاہر القادری
صوفیانہ/امن کا فروغ
انتہا پسندی کے خاتمے اور عالمی امن کے لیے ناگزیر
فروغ امن، ردِ دہشتگردی، مشترکہ اقدار
مفتی تقی عثمانی
کلاسیکی/فقہی
فقہی حدود کے اندر جائز، سیاسی معاہدات پر مبنی
دار الاسلام، معاہد، جزیہ، فقہی احکام
اسماعیل راجی الفاروقی
فلسفیانہ/علمی
تہذیبوں کے مابین ناگزیر، مذہبی وحدت کی بنیاد
دین الفطرۃ، اسلامی انسانیت پسندی
Export to Sheets
باب 6: مکالمے کے حامی علماء کے دلائل اور تصورات
امن کے داعی اور انتہا پسندی کے مخالف
اس گروہ میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی شخصیات شامل ہیں جو بین المذاہب مکالمے کو امن کے فروغ اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے اس بیانیے کو رد کرنے کے لیے ایک لازمی ذریعہ سمجھتے ہیں جسے غلط طور پر اسلام سے جوڑا جاتا ہے ۔ ان کی کوششوں کا محور اسلام کا "اعتدال پسند" چہرہ عالمی سطح پر پیش کرنا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام امن اور انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے ۔ ان کے نزدیک، جو چیز بھی امن کے لیے نقصان دہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔
جدیدیت پسند اور تعبیر نو کے حامی
اس فکر کے نمایاں ترین نمائندے جاوید احمد غامدی ہیں۔ ان کا نقطہ نظر کلیدی اسلامی اصطلاحات کی از سر نو تشریح پر مبنی ہے۔ وہ "کافر" کی اصطلاح کو صرف ان لوگوں تک محدود کرتے ہیں جنہوں نے کسی پیغمبر کے ذریعے براہِ راست اتمامِ حجت کے بعد حق کا انکار کیا ہو ۔ ان کے نزدیک، جدید قومی ریاستوں (जैसे पाकिस्तान) میں تمام شہری برابر ہیں اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ وہ غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد کلاسیکی فقہ کے "ذمی" کے تصور کے بجائے جدید شہری مساوات (civic equality) پر رکھتے ہیں، جس سے بین المذاہب تعلقات کی نوعیت یکسر بدل جاتی ہے ۔
اسلامی انسانیت پسندی کے علمبردار
فلسطینی نژاد امریکی مفکر اسماعیل راجی الفاروقی نے مکالمے کے لیے ایک انتہائی علمی اور فلسفیانہ ماڈل پیش کیا۔ انہوں نے "دین الفطرۃ" (انسانی فطرت کا دین) کے تصور کو تمام مذاہب کے درمیان مشترکہ بنیاد قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسلام دیگر ابراہیمی مذاہب میں موجود سچائی کا احترام کرتا ہے اور انسانیت کے مذہبی اتحاد کے لیے واحد جائز بنیاد فراہم کرتا ہے، بغیر اس کے کہ کوئی اپنے عقیدے کی نفی کرے ۔ ان کے نزدیک، مکالمہ محض خیر سگالی کا تبادلہ نہیں بلکہ ایک علمی اور روحانی جستجو ہے۔
باب 7: مکالمے پر تنقیدی اور تحفظاتی نقطہائے نظر
مناظراتی اور تقابلی مذہب کا اسلوب
ڈاکٹر ذاکر نائیک کا طریقہ کار ہم آہنگی کے لیے مکالمے کے بجائے برتری کے لیے مناظرے کا ہے۔ وہ تقابلِ ادیان کو استعمال کرتے ہوئے دیگر مذاہب کے عقائد میں موجود مبینہ تضادات کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ اسلام کی فوقیت ثابت کر سکیں ۔ اگرچہ وہ رہنماؤں سے ملاقاتوں میں "بین المذاہب ہم آہنگی" کی بات کرتے ہیں ، لیکن ان کی تقاریر کو دیگر مذہبی کمیونٹیز اکثر تفرقہ انگیز اور نفرت آمیز سمجھتی ہیں، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں ان پر پابندیاں عائد ہیں اور ان کی مذمت کی گئی ہے ۔ ان کا اسلوب جدید بین المذاہب مکالمے کے باہمی تعاون کے ماڈل کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔
کلاسیکی فقہی موقف
مفتی محمد تقی عثمانی جیسے روایتی علماء کا نقطہ نظر کلاسیکی حنفی فقہ پر مبنی ہے۔ وہ غیر معاندانہ ریاستوں کے ساتھ پرامن تعلقات کو قرآنی آیات (جیسے 8:61 اور 60:8) کی بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں، لیکن ان معاند حکومتوں کے خلاف جہاد کے کلاسیکی تصور کو بھی برقرار رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے خطرہ ہوں ۔ ان کا نقطہ نظر مکالمے کے جدید تصورات پر نہیں، بلکہ فقہ میں طے شدہ معاہدات، امان اور مختلف گروہوں کی قانونی حیثیت کے اصولوں پر قائم ہے۔
ادارہ جاتی فتاویٰ اور تحفظات
سرکاری اور نیم سرکاری مذہبی ادارے بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انڈونیشیا کی علماء کونسل (MUI) کے فتاویٰ، جو دوسرے مذاہب کے سلام کے استعمال سے روکتے ہیں، ایک ایسے ادارے کی مثال ہیں جو سماجی انضمام پر نظریاتی پاکیزگی کو ترجیح دیتا ہے ۔ اسی طرح، بین الاقوامی اتحادِ مسلم علماء (IUMS) کا غزہ کے حوالے سے فتویٰ عالمی سطح پر مذہبی اپیلوں اور قومی مذہبی اداروں کے درمیان کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ قومی ادارے اکثر ریاست کے ساتھ ہم آہنگ اور زیادہ معتدل مؤقف کی حمایت کرتے ہیں ۔
باب 8: تجزیہ اور سفارشات: کھوکھلے نعروں سے بامعنی تعامل تک
تصورات کا تصادم
یہ تفصیلی تجزیہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ "بین المذاہب ہم آہنگی" کے نعروں کے "کھوکھلا" ہونے کا احساس ایک بنیادی تصادم سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ تصادم "ہم آہنگی" کے سیکولر-انسانیت پسند منصوبے اور "عدل" و "اللہ کی اطاعت" کے اسلامی منصوبے کے درمیان ہے۔ جدید نعرے اس لیے بے معنی محسوس ہوتے ہیں کہ وہ اسلام کی گہری الٰہیاتی اور قانونی بنیادوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ وہ اسلام کے "ہارڈویئر" (مساجد، ادارے) کو تو استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس پر اپنا سیکولر "سافٹ ویئر" (عالمی امن، انسانی حقوق کا مغربی تصور) نصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
بامعنی تعامل کا فریم ورک
مسلمانوں کے لیے چیلنج یہ نہیں کہ وہ مکمل تنہائی یا ایک سیکولر ماڈل میں مکمل انضمام میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، بلکہ یہ ہے کہ وہ باہمی تعامل کا ایک ایسا مستند، پراعتماد اور اصول پر مبنی ماڈل تیار کریں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو۔ ایک بامعنی تعامل کے لیے درج ذیل اصولوں پر مبنی فریم ورک تجویز کیا جا سکتا ہے:
غیر متزلزل عقیدہ: تمام تعاملات کی بنیاد اسلامی عقیدے، خاص طور پر توحید، پر مضبوطی سے قائم ہونی چاہیے۔ "الولاء و البراء" جیسی نظریاتی حدود کا واضح شعور لازمی ہے۔
دعوت بالحکمة: ہر قسم کے تعلقات کو دعوت الی اللہ کا ایک موقع سمجھا جائے، جو قرآن کے حکم کے مطابق حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ ہو (سورۃ النحل، 16:125) ، نہ کہ اسے نظریاتی سمجھوتوں کا ایک فورم بنایا جائے۔
عدل و انصاف پر مبنی تعاون: غیر مسلموں کے ساتھ مشترکہ سماجی انصاف کے معاملات، جیسے غربت کا خاتمہ، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، اور ماحولیاتی تحفظ، پر بھرپور تعاون کیا جائے، کیونکہ یہ قرآن کے حکم "نیکی کے کاموں میں تعاون کرو" (5:2) کا عملی نفاذ ہے ۔ تاہم، ان تمام امور سے اجتناب کیا جائے جو گناہ اور شریعت کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
علمی استعداد: مکالمے میں حصہ لینے والے مسلم نمائندوں کے لیے لازم ہے کہ وہ نہ صرف اسلامی علوم میں گہری مہارت رکھتے ہوں، بلکہ دوسروں کے عقائد سے بھی بخوبی واقف ہوں، تاکہ وہ اسلامی مؤقف کو مؤثر اور درست انداز میں پیش کر سکیں اور غلط فہمیوں کا ازالہ کر سکیں ۔
خاتمہ
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اصل چیلنج ایک ایسے راستے کا تعین ہے جو نہ تو انتہا پسندانہ تنہائی کی طرف لے جائے اور نہ ہی اپنے عقائد پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کرے۔ اصل ضرورت ایک ایسے مستند اسلامی ماڈل کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی ہے جو اپنی نظریاتی بنیادوں پر قائم رہتے ہوئے دنیا میں عدل اور امن کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ یہ راستہ "کھوکھلے نعروں" کی پیروی کے بجائے اسلام کی حقیقی اور جامع تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ممکن ہے۔